Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے ۔ لیکن اب اللہ نے اسلام کو عزت و طاقت دے دی ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ تم اسلام پر قائم رہو تو بہت اچھا ہے، ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے۔ دونوں لوٹ کر دوبارہ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور قصہ بتا کر کہا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر (الخلیفة انت ام عمر ) حضرت ابوبکر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہی خلیفہ ہیں۔ حضرت ابوبکر نے اس معاملہ میں حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کیا۔ اور صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر نکیر نہیں کی ( تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 9 ،صفحہ 196-195 )۔ اس واقعہ میں نہ صرف خلیفہ اول پر تنقید تھی بلکہ بظاہر ان کی تو ہین بھی تھی۔ مگر یہ واقعہ جب حضرت ابوبکر اور دوسرے صحابہ کے علم میں آیا تو انھوں نے ان ظاہری پہلوؤں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ انھوں نے صرف یہ سوچا کہ باعتبار حقیقت حضرت عمر کی رائے درست ہے یا غیر درست ۔ اور جب محسوس ہوا کہ اصولاً وہ بالکل درست ہے تو سب نے اس کو قبول کرلیا۔ عمر فاروق کی مثال حضرت عمر فاروقؓ جب خلیفہ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں تمہاری ہی طرح ہوں اور تم لوگوں میں سے صرف ایک ہوں۔ اس لیے تم میرے خلاف جو بات بھی محسوس کروں اسے آزادانہ طور پر کہہ سکتے ہو۔ اس معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ ایک بار مدینہ کی مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر حضرت عمر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، اس دوران انھوں نے کہا کہ میرے اندر اگر تم کوئی ٹیڑ ھ دیکھو تو اس وقت تم کیا کرو گے ۔ ایک لمحہ خاموشی طاری رہی ۔ اس کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم ، اگر ہم نے آپ کے اندر کوئی ٹیڑھ دیکھا تو اس کو ہم اپنی تلواروں سے سیدھا کر دیں گے ( لَوْ مِلْتَ عَدَلْنَاکَ )۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page