Urdu book · دینِ انسانیت

پیغمبرانہ نصیحت

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ حدیث بظاہر عورت کے بارے میں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود مرد کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ایک فطری اصول ہے جس کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مرد کو بھی عورت کے ساتھ اسی اصول کے مطابق معاملہ کرنا ہے اور عورت کو بھی مرد کے معاملہ میں اسی اصول کو اختیار کرنا ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کو ہر صفت نہیں دی جاتی۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہر اعتبار سے بے صلاحیت پیدا ہوتا ہے اور نہ کوئی ہر اعتبار سے کامل۔ کسی کے اندر اگر ایک خصوصیت پائی جا رہی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت مفقود ہوگی۔ ایسی حالت میں کوئی اگر ایسی چیز چاہے جو فطرت کے نظام میں موجود نہیں ہے تو اس کا ایسا چاہنا بے معنی ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کا طالب ہے جو یہاں قابل حصول ہی نہیں۔ ایک شخص کو اگر ایسی بیوی ملے جس میں ظاہری کشش کم ہو تو اس کو ایسی خاتون سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یقینی ہے کہ اس کے اندر عملی خصوصیات بہت زیادہ ہوں گی۔ کوئی خاتون اگر جلد غصہ میں آجاتی ہوں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جس کے اندر غصہ زیادہ ہوتا ہے اس کے اندر اصول پسندی، اخلاص اور دیانت داری کی صلاحیت بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اگر آدمی بیزار ہونے کے بجائے قدردانی کی نگاہ سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ اس کی رفیقۂ حیات میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو غیر موجود خصوصیت کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی ہیں۔ وہ اپنی بیوی میں سطحی صفت دیکھنا چاہتا تھا، جب کہ قدرت نے اس کے اندر گہری صفت پیدا کر رکھی تھی۔ وہ اس کے اندر تفریحی پہلو کی تلاش کر رہا تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایسے پہلو رکھ دیے تھے جو زندگی کو بنانے اور گھر کو آباد کرنے کے اعتبار سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page