Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 304

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کے اس نظام پر آدمی کو اگر یقین ہو تو اس کے اندر جھنجھلاہٹ اور مایوسی کا مکمل خاتمہ ہو جائے، وہ سراپا امید اور یقین میں جینے لگے۔ اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو آپ کو کسی کی ضد کے مقابلہ میں اپنا فائدہ چھوڑنا گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہوگا، کیونکہ آپ جانیں گے کہ اس کی حسن تلافی عنقریب خدا کی طرف سے کی جانے والی ہے۔ وقار کی قربانی آپ کو قربانی معلوم نہیں ہوگی۔ کیونکہ آپ کو یقین ہوگا کہ بہت جلد اس کا معاوضہ اضافہ کے ساتھ ملنے والا ہے۔ کسی کی اشتعال انگیزی پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں رہے گا۔ کیوں کہ آپ کو دکھائی دے گا کہ اس صبر کے پیچھے خدا کی عظیم نصرت میری طرف چلی آرہی ہے۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خدا کی اس دنیا میں ایک مثبت پالیسی ہے۔ انتظار ہمت ہارنا نہیں ہے، انتظار اس بلند ہمتی کا ثبوت دینا ہے کہ آپ وقتی ہیجان سے اوپر اٹھ گئے ہیں اور مستقبل بینی کی بصیرت کے حامل ہیں۔ انتظار فریق ثانی کے مقابلہ میں ہتھیار نہیں ہے۔ انتظار یہ ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ کے لیے آپ نے اپنی ذات کو ہٹا دیا اور خدا وند عالم کو اپنی جگہ کے اوپر کھڑا کر دیا۔ پیغامبرانہ نصیحت صحیح مسلم ( باب الوصیۃ بالننساء ) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن کسی مومنہ سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی : لا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1469)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page