Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

خوبیوں سے خالی نہیں۔ اس لیے عورت اور مرد کو چاہیے کہ اپنی ملی ہوئی چیز ہی میں خوبیاں تلاش کریں، نہ کہ اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو کبھی مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیونکہ ہر بظاہر مایوسی کے واقعہ میں اللہ نے امید کا ایک پہلو چھپا دیا ہے۔ جنت کا استحقاق دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں مرد بھی امتحان کی حالت میں ہے اور عورت بھی امتحان کی حالت میں۔ کسی عورت یا مرد کو جو کچھ اس دنیا میں ملتا ہے وہ سب اس کے لیے امتحان کا پرچہ ہے۔ اور ہر ایک کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے ٹھیس پہنچنے کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان محبت کے ساتھ رہ سکے۔ عورت کے امتحان کا سب سے زیادہ اہم پرچہ اس کی سسرال ہے۔ عورت جب میکے میں ہوتی ہے تو وہاں وہ خونی رشتوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، ہر ایک اس کے لیے خونی رشتہ دار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک کو وہ اپنا سمجھتی ہے۔ اس لیے جب کوئی ناخوشگواری کی بات پیش آتی ہے تو وہ سنگین بات بننے نہیں پاتی۔ میکے میں بھی بار بار ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ عورت کو گھر والوں سے کسی ناخوش گوار بات کا تجربہ ہو۔ شکایت اور تلخی اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ وہ ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آتی ہے۔ لیکن میکے میں جب عورت کو گھر کے کسی فرد سے اس قسم کا ناموافق تجربہ ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ کیونکہ خون کا تعلق غالب آکر تلخی کے احساس کو ختم کر دیتا ہے۔ لیکن عورت کی جب شادی ہو جاتی ہے اور وہ رخصت ہو کر سسرال میں آتی ہے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page