Urdu book · دینِ انسانیت

جنت کا استحقاق

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں کی فضا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ہر رشتہ دار غیر خونی رشتہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں جب کوئی تلخی یا شکایت کی بات ہوتی ہے تو اگر چہ وہ عام فطری قانون کے تحت ہوتی ہے۔ مگر چونکہ میکہ کی طرح سسرال میں خون کا تعلق اس پر غالب آنے کے لیے موجود نہیں ہوتا، اس لیے یہاں ہر بات اس کے لیے سنگین بات بن جاتی ہے۔ جو بات میکہ میں بھول کے خانہ میں چلی جاتی تھی وہ سسرال میں یاد کے خانہ میں مسلسل زندہ رہتی ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو عورت اپنے میکہ میں بے مسئلہ خاتون بن کر رہتی تھی، وہ سسرال میں مسائل کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی عورت کے امتحان کا پر چہ ہے۔ وہ سسرال میں بھی اسی طرح رہے جس طرح وہ میکہ میں رہتی تھی۔ جس طرح میکہ میں شکایت کے با وجود وہ افراد خاندان سے حسن تعلق باقی رکھتی تھی۔ اسی طرح وہ سسرال میں بھی شکایت کے با وجود خاندان کے افراد سے خوش گوار تعلقات کو باقی رکھے۔ وہی عورت آخرت کی جنت کی مستحق ہے جو اپنے حسن عمل سے اپنے شوہر کے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دے۔ اس دنیا میں کوئی عورت یا مرد جب اپنے امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ قریبی ماحول کے افراد سے وہ کسی نہ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی پیچیدگی بعض اوقات اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ اس سے اوپر اٹھنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ وہ نفسیاتی پیچیدگی کے اس طوفان میں گھر کر رہ جاتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں کے لیے کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس نزاکت کا شعوری ادراک کرے اور اس سے غیر متاثرہ کر اپنا مفوضہ کردار ادا کر سکے۔ ایک عورت کو ایک پورے ماحول میں رہنا پڑتا ہے جہاں اس کا سابقہ بار بار بہت سے مردوں اور عورتوں سے پیش آتا ہے۔ اس عمل کے دوران کبھی کسی کی بات پر اس کو غصہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page