دینِ انسانیت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی قتل ہوگا اور اس کا دل پاک ہوگا تو اللہ اس کو ضر ورجنت میں داخل کرے گا : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يُقْتَلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ أَحَدٌ نَقَّى قَلْبَهُ اللَّهُ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ (البدايه والنهایه، جلد 7، صفحه (238 _ خلیفہ چہارم کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اختلاف اتنا بڑھے کہ باہمی طور پر جنگ کی نوبت آجائے تب بھی مومن فریق ثانی کے بارے میں اچھا ہی گمان رکھتا ہے۔ رائے کا اختلاف کسی بھی حال میں دل کے اختلاف یا بگاڑ کا سبب نہیں بنتا۔ ایک واقعہ صحیح البخاری ( کتاب العلم ) میں انس بن مالک کی ایک روایت ہے۔ وہ مدینہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں وہ خود موجود تھے۔ اس کا ابتدائی حصہ یہ ہے : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي المَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمُ مُحَمَّدُ؟ والنَّبيُّ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَّكِئُ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ، فَقُلْنَا: هذا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ المُتَّكِئُ. فقالَ لَهُ الرَّجُلُ : اِبنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ! فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَدْ أَجَبْتُكَ . فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي المَسْأَلَةِ، فلا تَجِدَ عَلَيَّ في نَفْسِكَ . فَقَالَ : سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ . فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، اللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ - الخ ۔ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 63 ) یعنی، ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader