Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر داخل ہوا۔ اس نے اپنا اونٹ مسجد میں بٹھایا، پھر اس نے اسے باندھا۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں محمد کون ہیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ تکیہ لگائے ہوئے ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ یہ سفید آدمی جو تکیہ لگائے ہوئے ہے۔ آنے والے نے کہا، اے عبدالمطلب کے بیٹے، آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری بات سن لی۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے سوال کروں گا اور سوال میں آپ سے سختی کروں گا۔ آپ اپنے دل میں میرے اوپر غصہ نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب کی اور جو آپ سے پہلے تھے ان کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سارے انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا، خدایا ہاں۔ الخ پیغمبر اسلام کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی سے بھی جو سوال چاہے کرے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے کلام میں سخت انداز اختیار کرنے کے لیے بھی آزاد ہے۔ مخاطب کو چاہیے کہ وہ سائل پر غصہ نہ ہو بلکہ ٹھنڈے طریقہ پر اس کے ہر سوال کا جواب دے۔ ظاہرداری نہیں قرآن میں وراثت کا قانون بناتے ہوئے ایک آیت یہ آئی ہے کہ: مِنْ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الأَوْلَيٰنِ (5:107)۔ یعنی ، ان میں سے جن کا حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میت کے۔ اس آیت کے لفظ الاولیان کی قرآت میں اختلاف ہے۔ حسن نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page