ایک گواہی
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرنے میں متردد رہتی ہیں۔ کیونکہ انہیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ لڑکے وہ ہیں جو تعلیم کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ کیونکہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں، جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔ مذکورہ امریکی خاتون نے اپنے تجربہ کی روشنی میں اسلام کے اصول کی نہایت درست ترجمانی کی ہے۔ اسلام میں عورت کے درجہ کو مرد کے مقابلہ میں گرایا نہیں گیا ہے۔ بلکہ برابری کے اصول پر دونوں کے درمیان تقسیم کار کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اسلام نے زندگی کے معاملات کو دو بڑے حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک بیرونی حصہ، دوسرا اندرونی حصہ۔ اسلام کے مطابق، بیرونی حصہ حیات کا انچارج مرد ہے اور اندرونی حصہ حیات کی انچارج عورت۔ یہ تقسیم کار دونوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس طرح زندگی کے ایک شعبہ میں مرد اپنی پوری طاقت لگانے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت زندگی کے دوسرے شعبہ میں آزاد ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ کو استعمال کرتے ہوئے اس کو بخوبی طور پر منظم کرے۔ یہ تقسیم ایک اعتبار سے آزادانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے اس کی حیثیت دندانہ دار پہیہ (cogwheel) جیسی ہے۔ دندانہ دار پہیہ میں ہر پہیہ کی اپنی الگ شخصیت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں پوری طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک کا عمل دوسرے سے بندھا ہوا ہوتا ہے۔ ان کی درست کار کردگی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ دونوں پوری طرح ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader