Urdu book · دینِ انسانیت

تین مرحلے

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

تین مرحلے ایک عورت کو اپنی زندگی میں تین بڑے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک لڑکی کی صورت میں اپنے صبح و شام بسر کرتی ہے۔ اس کے بعد اس کا نکاح ہوتا ہے اور وہ بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر منتقل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس کی حیثیت ماں کی بن جاتی ہے۔ یہ تینوں مرحلے تقریباً ہر عورت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہیں اور ہر دور میں عورت کو اس کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے تاکہ اس کی ترقی جاری رہے اور وہ آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے۔ ان تینوں مرحلوں میں عورت کو جو کام کرنا ہے اس کو تین عنوانات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے ۔ تعلیم، خانہ آبادی، تربیت نسل۔ پہلے مرحلہ میں جب کہ عورت کی حیثیت ایک لڑکی کی ہوتی ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم کا حصول ہے۔ زندگی کا یہی وہ تعمیری دور ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ علم کا حصول ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت پر فرض ہے : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ (سنن ابن ماجه ، حدیث نمبر 224) ۔ تعلیم زندگی کی تعمیر ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ انسان حقیقی معنوں میں انسان بنتا ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعہ ذہن اس ارتقائی حالت تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو سمجھے ۔ وہ دنیا اور آخرت سے سچی واقفیت حاصل کرے ۔ وہ مراحل حیات میں کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ داخل ہو اور صحیح طور پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page