تین مرحلے
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عورت جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے تو اس کی حیثیت ایک خام مادہ کی ہوتی ہے۔ اس کے اندر تمام فطری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں مگر یہ صلاحیتیں خام حالت میں ہوتی ہیں۔ ان صلاحیتوں کو جلا دینے کا کام تعلیم کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ تعلیم گویا لوہے کو اسٹیل بناتی ہے، وہ فطری امکانات کو واقعہ کے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔ تعلیم عورت کی شخصیت کو مکمل کرتی ہے۔ ہر عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، عورت جتنی زیادہ صاحب علم ہوگی اتنا ہی زیادہ وہ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے گی۔ تعلیم کے دو پہلو ہیں۔ ایک کو سیکولر تعلیم اور دوسرے کو دینی تعلیم کہہ سکتے ہیں۔ عورت کے لیے دونوں ہی ضروری ہیں، اگرچہ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔ سیکولر تعلیم اگر ضرورت حیات کے درجہ میں مطلوب ہے تو دینی تعلیم مقصد حیات کے درجہ میں درکار ہے۔ سیکولر تعلیم عورت کو زندگی کا شعور عطا کرتی ہے۔ وہ اس کو سوچنے اور رائے قائم کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ انسانی نفسیات کیا ہے۔ زمانہ کے تقاضے کیا ہیں۔ قوم اور ملک کی تاریخ کیا ہے۔ وہ انسانی حالات کیا ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی کا امتحان دینا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کو سیکولر تعلیم یا دنیوی تعلیم کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کرنا عورت کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر وہ اپنے فرائض حیات کو کامیابی کے ساتھ ادا نہیں کر سکتی۔ دینی تعلیم کی حیثیت مقصدی ہے۔ ہر عورت پر لازم ہے کہ وہ ضروری حد تک قرآن اور حدیث کا علم حاصل کرے۔ وہ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں کو جانے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے بقدر ضرورت واقف ہو۔ وہ جانے کہ انسان کے لیے اسلام کا عطیہ کیا ہے۔ عورت اگر عربی زبان سیکھ سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ ورنہ اپنی مادری زبان میں اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader