Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی جب روحانی بلندی یا شعوری ارتقا کے اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ آخری حد تک حقیقت شناس بن جاتا ہے۔ اور ایک سچا حقیقت شناس ہی سیرت کو اس کی تمام گہرائیوں کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ آدمی حقیقت شناسی کے جس مرتبہ پر ہوگا اسی کے بقدر وہ سیرت کے رموز کو سمجھنے میں کامیاب ہوگا۔ سیرت کا مطالعہ گویا معرفت کے سمندر میں غواصی ہے۔ غواصی کا یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ لوگ اپنی ہمت کے مطابق ہمیشہ اس سے نئے نئے موتی نکالیں گے۔ ہر دور کے انسان اس خزانہ سے مالامال ہوتے رہیں گے، وہ کبھی کسی کے لیے خالی ہونے والا نہیں۔ دلیل نبوت قرآن میں پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (124: 6) - اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے۔ یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔ اس آیت میں جَعَلَ سے مراد وَضْع (placement) ہے۔ حضرت ابراہیم نے بنائے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ، 2: 129)۔ اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وضع رسالت انتہائی موزوں تاریخی لمحہ میں وقوع میں آیا۔ پوری نسل اسماعیل میں سے اس انسان کا انتخاب کیا گیا جو اس منصب کے لیے موزوں ترین تھا۔ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ مناسب ملک تھا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page