Urdu book · دینِ انسانیت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ حج کے موسم میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب سے ملنے کے لیے نکلے تو آپ کی ملاقات مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے ہوئی۔ ان کے سامنے آپ نے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے آپ کی بات سنی تو آپس میں کہنے لگے: يَا قَوْمِ، تَعْلَمُوا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلنَّبِيُّ الَّذِي توَعَدَكُمُ بِهِ يَهُودُ، فَلَا تَسْبِقُنَّكُمْ إِلَيْهِ۔ فَأَجَابُوهُ فِيمَا دَعَاهُمْ إِلَيْهِ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 38)۔ یعنی، لوگو سمجھ لو۔ خدا کی قسم، ضرور یہ وہی نبی ہے جس کا ذکر تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز کی دعوت آپ نے انہیں دی اس کو انہوں نے قبول کر لیا۔ یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے 618ء میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خوں ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انہیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہؓ نے اس طرح فرمایا: كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَاةُهُمْ وَجُرِحُوا، فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3777)۔ یعنی، بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول کی خاطر تمہید کے طور پر برپا کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سر بر آوردہ لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page