دلیل نبوت
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
مقتول اور زخمی ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے دخول اسلام میں معاون بنا۔ یہی بات انسائیکلو پیڈیا برطانیکا کے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو 618ء میں ہوئی ۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہوسکا تھا۔ محمد کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے ۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انہیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا جو کہ انہیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انہیں انصاف مل سکے: Much blood had been shed in a battle at battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their contact with the jews may have prepared them for a messianic religious leader, who would deliver them from oppression and establish a kingdom in which justice prevaild. (Encyclopaedia Britannica Vol. 12, p. 601) 4۔ پیغمبر اسلامؐ کے مشن کا ایک جزء یہ تھا کہ وہ اس دور کو دنیا سے ختم کر دیں جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی سیاسی نظام ہے جو قدیم زمانہ میں انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کی پیدائش جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی جو اس زمانہ کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں، رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان میں واقع تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader