دلیل نبوت
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
قریش نے دیکھا کہ ذی الحجہ کا مہینہ جب معتدل موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کے قافلے زیادہ بڑی تعداد میں مکہ آتے ہیں۔ اور جب ذی الحجہ کا مہینہ سخت موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کی تعداد کافی کم ہو جاتی ہے۔ اس تجربہ کے بعد قریش نے حج کے نظام کو بدل دیا۔ انہوں نے اس کو قمری کیلنڈر سے ہٹا کر شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ تا کہ حج کی تاریخ کو ہمیشہ معتدل اور موافق موسم میں انجام دیں اور اس طرح اپنے تجارتی مفاد کو بلا روک ٹوک حاصل کر سکیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ آپ حج کی عبادت کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کر دیں۔ اس تبدیلی کا اعلان آپ فتح مکہ (8ھ) کے موقع پر کر سکتے تھے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی اصلاح کے سلسلہ میں آپ کی ایک مستقل سنت یہ تھی کہ روایات کو توڑے بغیر ان کو نافذ کیا جائے۔ اگر آپ فتح مکہ کے دن اس کا اعلان فرماتے تو ایسی کارروائی روایات کو توڑے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ اصل یہ ہے کہ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس لیے 33 سال کی گردش کے بعد دونوں ایک دوسرے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ اس سال اگر فروری میں پڑے تو 33 سال کے بعد دوبارہ وہ فروری کے مہینہ میں آ جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو مہینہ پہلے یہ 33 سالہ دور پورا ہونے والا تھا۔ اور دوبارہ حج کا موسم ذی الحجہ کے مہینہ میں آنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد نہ تو حج کے نظام میں تبدیلی کا اعلان فرمایا اور نہ اس کے بعد آنے والے حج میں آپ نے شرکت کی۔ آپ نے 10ھ میں پہلا حج کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس سال کا حج اپنے آپ خود گردش کے نظام کے نتیجہ میں ذی الحجہ میں پڑنے والا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ پہلے مکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader