Urdu book · دینِ انسانیت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 347

By Maulana Wahiduddin Khan

first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium, religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to Constantinople. (Encyclopedia Britannica Vol. 3, p. 557) 5۔ موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، وہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ مثلاً رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا نظام قائم کیا تو انہوں نے اس کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا تھا۔ یعنی یہ کہ حج کی عبادت ذی الحجہ کے مہینہ میں ادا کی جائے۔ قدیم زمانہ میں مکہ کا قبیلہ قریش کعبہ کا متولی تھا۔ ان کی معاشیات کا سب سے بڑا ذریعہ کعبہ کا حج تھا۔ عرب کے تمام قبائل ہر سال حج وزیارت کے لیے مکہ آتے۔ وہ اس پر چڑھاوے چڑھاتے ۔ اس کے علاوہ ان کے آنے سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا، جس طرح سیاح آج کل جس ملک میں بڑی تعداد میں آتے ہیں، وہاں کی تجارت کو ان سے فروغ حاصل ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page