Urdu book · دینِ انسانیت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 350

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی استطاعت سے باہر تھا۔ اس انقلابی تبدیلی کو قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مصلح کی پیدائش بالکل حسابی انداز میں ایسے زمانہ میں ہو جب کہ کائنات کا آفاقی نظام بھی اس کی مدت حیات کے ساتھ مساعدت کر رہا ہو۔ صرف خداوند عالم ہی اس پر قادر ہو سکتا تھا۔ اور پیغمبر اسلام کی زندگی میں ان آفاقی اسباب کا جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ خداوند عالم کے فرستادہ تھے۔ 6۔ دنیا کے تمام انقلابات، خالص نظریاتی اعتبار سے، ناکام انقلابات ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی انقلاب اپنے نظریاتی معیار والا نظام نہ بنا سکا۔ تمام انقلابات صرف ارباب حکومت کی تبدیلی کے ہم معنی ہیں۔ اس کا آغاز خوش نما نظریات کی تبلیغ سے ہوا۔ مگر جب عملی انقلاب کی نوبت آئی تو ان کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہو گئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔ اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی جو پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظریہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوت محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ڈیمو کریسی (جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا۔ مگر عملی صورت میں ڈیمو کریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی۔ 1776ء میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page