دلیل نبوت
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ میں اور 1789ء میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیمو کریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے درجہ میں باقی رہی۔ وہ اپنی تیسری نسل میں پہنچ کر عملی واقعہ بن سکی۔ جب کہ اس کے ابتدائی نظریہ ساز ختم ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریسی کے نام پر آنے والے انقلابات ڈیمو کریسی کا حقیقی نمونہ نہ بن سکے۔ اسی طرح کمیونزم کا نظریہ انیسویں صدی میں ابھرا۔ مگر اس کا عملی نفاذ بیسویں صدی میں کمیونسٹوں کی دوسری اور تیسری نسل میں ہوا۔ پہلی نسل کے افراد کے لیے اس کو عملی روپ دینا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ حکمرا نوں کی تبدیلی کے معنی میں تو کمیونزم نافذ ہو گیا۔ مگر اس کا نظریاتی معیار کبھی اور کسی ملک میں واقعہ نہیں بنا۔ اس کے برعکس، اسلام کا نظریہ پہلی ہی نسل (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے زمانہ میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اگر مثال کے طور پر ایسا ہوتا کہ عرب کی فتح بنوامیہ کی خلافت کے زمانہ میں ہوتی اور ایران و روم کی فتوحات بنو عباس کی خلافت کے زمانہ میں انجام پاتیں تو ناممکن تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میں بنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کی کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی۔ مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہو گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردان کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو پہلی ہی نسل میں مردان کار کی ایک طاقت ور ٹیم مل گئی جس نے غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کو تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader