Urdu book · دینِ انسانیت

تکمیل دین

Urdu book, p. 386

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سوا کوئی بھی تاریخ کے بارے میں ایسے فیصلہ کن اعلان پر قادر نہیں اور نہ کبھی کسی نے اس قسم کا فیصلہ کن اعلان تاریخ کے بارے میں کیا۔ اس مختصر صحبت میں میں تاریخ کے تین بڑے واقعات کا ذکر کروں گا۔ یہ واقعات وہ ہیں جو بظاہر مخالفت دین انقلاب کی حیثیت سے ظاہر ہوئے، مگر باعتبار نتیجہ وہ حامی دین انقلاب بن گئے۔ یہ تین انقلابات ہیں۔ آزادی، سائنس، اور سیکولرزم۔ 1۔ موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ جب کہ پچھلے تمام زمانے اظہار خیال پر پابندی کے زمانے رہے ہیں۔ ہر انسانی گروہ میں، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، دنیا کے ہر حصے میں اور تاریخ کے ہر مرحلے میں، کسی نہ کسی شکل میں زبان و قلم پر احتساب قائم رہا ہے: Some form of censorship has appeared in all communities, small and large, in all parts of the world, at all stages of history. (Encyclopædia Britannica, Vol. 3, p. 1083) آزادی اظہار پر اسی عمومی پابندی کا یہ نتیجہ تھا کہ مذاہب کی مقدس کتابیں کبھی کھلی تنقید کا موضوع نہ بن سکیں۔ تنقیدی جائزہ کی اس ممانعت کی بنا پر ایسا ہوا کہ ایک مذہبی کتاب اور دوسری مذہبی کتاب کا فرق بھی خالص علمی بنیاد پر واضح ہو کر سامنے نہیں آیا۔ مذہبی کتابوں کی حیثیت متعین کرنے کا معلوم ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ان کتابوں کو ماننے والوں کا اپنا عقیدہ تھا۔ ہر گروہ اپنی مقدس کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب بتا رہا تھا، اس بنا پر لوگوں نے بھی ہر کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب فرض کر لیا تھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن محفوظ آسمانی کتاب تھی، اور دوسری تمام کتابیں غیر محفوظ آسمانی کتاب، قرآن پوری طرح غیر محرف تھا، جب کہ دوسری تمام مذہبی کتابیں تحریف کا شکار ہو چکی تھیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page