تکمیل دین
Urdu book, p. 385
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ اس آیت میں دین کامل سے مراد دین مستحکم ہے(لسان العرب، جلد 11، صفحہ 598، تفسیر النسفی، جلد 1، صفحہ 270)۔ پچھلے زمانوں میں دین میں بار بار تحریف و تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔ مخالف طاقتیں پیغمبروں کے دین کو تاریخ تک سے مٹانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ عالم انسانی میں ایسا انقلاب لایا گیا کہ دینی عدم استحکام کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ضحاک کے قول کے مطابق، قرآن کی یہ آیت فتح مکہ کے بعد 8ھ میں نازل ہوئی۔ یعنی ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے چودہ سو سال پہلے۔ اس وقت کے حالات میں اس آیت کی حیثیت مستقبل کے بارے میں ایک جرات مندانہ پیشین گوئی کی تھی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اب خدا کے دین کے لیے خشیتِ انسانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اب خدا کا دین اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ مخالف طاقتیں آئندہ کبھی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں تمام کام اسباب عادی کے تحت انجام پذیر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کو شامل کر کے مذکورہ آیت کی تفسیر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے زمانوں میں تاریخ کا سفر صرف اس سمت میں ہوگا، جو دینِ خداوندی کے موافق ہو۔ آئندہ پیش آنے والے واقعات صرف وہی رخ اختیار کریں گے، جو دین خدا کا اثبات کرنے والے ہوں، نہ کہ اس کی تردید کرنے والے۔ یہ پیشین گوئی تمام زمانوں میں مکمل طور پر پوری ہوئی ہے۔ اس طرح خالص علمی اور تاریخی سطح پر یہ ثابت ہوا ہے کہ قرآن خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ کیونکہ خداوند عالم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader