Urdu book · دینِ انسانیت

تکمیل دین

Urdu book, p. 388

By Maulana Wahiduddin Khan

ہزاروں واضح فرق پائے گئے۔ مثال کے طور پر تورات کے کچھ نسخوں میں ایک گروہ کی تعداد دس ہزار (ten thousands) بتائی گئی تھی۔ اور کچھ دوسرے نسخوں میں اسی گروہ کی تعداد کے لیے ہزاروں (thousands) کا لفظ درج تھا۔ انجیل میں ایک مقام پر حضرت مسیح کے لیے ابن اللہ (son of God) لکھا ہوا ملا۔ اور اس کے کچھ دوسرے نسخوں میں حضرت مسیح کو ابن داؤد (son of David) لکھا ہوا تھا، وغیرہ۔ موجودہ دور آزادی قرآن اور اسلام کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا تھا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ اسلام کے حق میں مفید ثابت ہوا۔ اس نے قرآن کے حق میں ایک نئی تاریخی دلیل فراہم کردی۔ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق جواب تک صرف مسلمانوں کے ذاتی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب خود علم انسانی کی رو سے ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آزادی کا یہ طوفان بظاہر اہل اسلام کے لیے ”عُسر“ کا ایک واقعہ تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ اہل اسلام کے لیے ”عین یُسر“ کے ہم معنیٰ ثابت ہوا۔ 2۔ دوسرا فکری انقلاب جدید سائنسی انقلاب ہے۔ خاص طور پر انیسویں صدی عیسوی میں کسی چیز کو دریافت کرنے کا وہ طریقہ وضع ہوا جس کو سائنسی طریقہ (scientific method) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں چیزوں کو قابل مشاہدہ یا قابل تجربہ واقعات کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔ اس طریقہ کے رواج سے انسان کو بہت سی نئی چیزوں کے بارے میں واقفیت ہوئی ۔ مثلاً شمسی نظام کا تفصیلی علم، یا زمین کی تہوں کے بارے میں قطعی معلومات۔ ان مادی دریافتوں کے بعد ایک مستقل فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹوزم (positivism) کہا جاتا ہے۔ اسی فلسفہ کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کہ کسی حقیقی علم تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page