تکمیل دین
Urdu book, p. 389
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچنے کا معیار (criterion) صرف ایک ہے، اور وہ براہ راست تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا گیا تو مذہبی معتقدات اس معیار علم میں پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ کیونکہ مذہبی عقائد تمام تر بالواسطہ استدلال یا استنباط کی بنیاد پر قائم تھے۔ مثلاً خدا کا وجود نا قابل مشاہدہ تھا۔ اس کے حق میں جو دلیل دی جاتی تھی وہ بس اس قسم کی تھی کہ اس عالم میں چونکہ ڈیزائن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈیزائنر ہو۔ اس قسم کا استنباطی استدلال جدید علمی معیار کے مطابق غیر معقول (invalid) تھا۔ اس لیے ان کو فرضی توجہیات (pseudo-explanations) کہہ کر رد کر دیا گیا۔ علم کی دنیا میں تقریباً بیسوسال تک یہ فکری ہنگامہ جاری رہا۔ مگر اس نقطہ نظر میں فکری وزن صرف اس وقت تک تھا جب تک انسانی علم کی رسائی عالم کبیر(macro-world) تک محدود تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو ساری صورت حال یکسر بدل گئی۔ اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آ رہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں راٹجن (Wilhelm Conrad Rontgen 1845-1923) نے 1895ء میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثرات (effect) ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک نا قابل مشاہدہ شعاع (invisible

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader