Urdu book · دینِ انسانیت

تکمیل دین

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

اتاترک کے انتقال کے بعد ان کے ساتھی عصمت انونو (م 1973ء) ترکی کے صدر مقرر ہوئے۔ انہوں نے بھی پوری وفاداری کے ساتھ اتاترک کی جارحانہ سیکولر پالیسی جاری رکھی۔ مگر تقریباً پچاس سال کی مخالف اسلام حکومتی مہم کے باوجود ترکی میں اسلام زندہ رہا۔ اتاترک کی اسلام کو ختم کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ حتیٰ کہ خود عصمت انونو کو اپنی آخر عمر میں اس کا اعتراف کرنا پڑا۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انہوں نے اس معاملہ میں اپنا جو تاثر بیان کیا وہ عرب رپورٹ کے مطابق یہ تھا: إِنَّنِي أَكَادُ أُصَدِّقُ مَا أَرَى. لَقَدْ بَذَلْنَا كُلَّ مَا نَسْتَطِيعُ لِانْتِزَاعِ الْإِسْلَامِ مِنْ نُفُوسِ الْأَتْرَاكِ وَغَرْسِ مَبَادِئِ الْحَضَارَةِ الْغَرْبِيَّةِ مَكَانَهُ. فَإِذَا بِنَا نَفَاجَأُ بِمَا لَمْ نَكُنْ نَتَوَقَّعُهُ. فَقَدْ غَرَسْنَا الْعِلْمَانِيَّةَ فَأَثْمَرَ الْإِسْلَامُ (الوعی الاسلامی، ذوالقعدہ 1408ھ، العدد 287، صفحہ 27)۔ میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اور اس کی جگہ مغربی تہذیب کو ان کے اندر داخل کر دیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا۔ چنانچہ ہم نے تو سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ اس سلسلہ میں دوسری ناکام مثال سوویت یونین کی ہے۔ اس علاقہ میں اولاً فکری طور پر اور پھر 1917ء سے طاقت ور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ کوشش تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ مگر 1991 میں خود کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد حیرت انگیز طور پر اس کے ملبہ سے اسلام زندہ حالت میں نکل آیا۔ امریکی میگزین ٹائم (12 مارچ 1990ء) نے سوویت علاقہ کے بارے میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page