تکمیل دین
Urdu book, p. 391
By Maulana Wahiduddin Khan
worldlines to this worldlines. (Encyclopedia Britannica, Vol. 10, p. 19) سیکولرزم کا نظریہ جدید دنیا پر ایک طاقتور سماجی اور سیاسی فکر کی حیثیت سے چھا گیا۔ نظری اعتبار سے اگر چہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی ملک کی اجتماعی پالیسی مذہبی امور میں عدم مداخلت (non-interference) کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ مگر عملاً وہ ایک زبردست مخالف مذہب (anti-religious) طاقت بن گیا۔ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیکولرزم کی لہر اولاً مذہب کو زندگی کے حاشیہ کی طرف دھکیل دے گی، اور اس کے بعد ایک غیر حقیقی نظریہ کی حیثیت سے مذہب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر قرآن کی پیشین گوئی دوبارہ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ دین خداوندی کا تعلق انسان کی ابدی فطرت سے ہے۔ مذہب کا احساس انسان کے لیے اسی طرح ناقابل تغیر ہے جس طرح پیاس کا احساس انسان کے لیے ناقابل تغیر ہے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر بننے والے وسیع ترین ادارے اور انتہائی طاقت ور حکومتیں بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ انسان خدائی دین کو چھوڑ کر سیکولرزم کو اپنا مذہب بنا لے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموز تجربہ وہ ہے جس کی مثال ترکی میں ملتی ہے۔ کمال اتاترک نے ترکی میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد 1924ء میں اسلامی خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے جارحانہ سیکولرزم کو ملک کی پالیسی قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی طاقت کے زور پر تمام مدرسے اور تمام دینی ادارے یک لخت بند کر دیے۔ انہوں نے نئی قانون سازی کے ذریعہ ترکی کا پورا نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ حتی کہ ترکوں کے قدیم لباس کو بھی بزور تبدیل کر کے انہیں یورپی لباس پہننے پر مجبور کر دیا۔ اس سلسلہ میں ہر مخالفت کو طاقت کے ذریعہ کچل دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader