دینِ انسانیت
Urdu book, p. 394
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ جو بظاہر تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے (فصلت، 34)۔ وَالآنَ وَنَحْنُ نُوَاجِهُ الصُّعُوبَاتِ وَالمُشْكِلاتِ، لَوْ أَنَّنَا أَقَمْنَا القُرْآنَ فَسَوْفَ يُثْبِتُ التَّارِيخُ، وَكَأَنَّمَا سَيْفُ التَّتَرِ قَدْ ظَهَرَ مَرَّةً أُخْرَى لِيَتَحَوَّلَ إِلى خَادِمٍ وَحَامٍ لِدِينِ اللَّهِ كَمَا حَدَثَ فِي القَرْنِ السَّابِعِ الهِجْرِيِّ۔ پیغمبر اسلام کا اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا جس کا نام مسیلمہ بن حبیب تھا۔ وہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے پیغمبر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ 10 ہجری میں اس نے اپنے دو آدمیوں کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا جس کا مضمون یہ تھا: مِنْ مُسَيْلِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ، إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الأَمْرِ مَعَكَ، وَإِنَّ لَنَا نِصْفَ الأَرْضِ، وَلِقُرَيْشٍ نِصْفَ الأَرْضِ، وَلَكِنَّ قُرَيْشًا قَوْمٌ يَعْتَدُونَ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 600)۔ مسیلمہ خدا کے رسول کی طرف سے محمد خدا کے رسول کے نام۔ تمہارے اوپر سلامتی ہو۔ اس کے بعد یہ کہ میں نبوت میں تمہارے ساتھ تمہارا شریک بنا دیا گیا ہوں اور یہ کہ نصف زمین (عرب) ہمارے لیے ہے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مگر قریش حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہیں۔ مسیلمہ کے سفیر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا خط پڑھا گیا تو آپ نے سفیروں سے پوچھا کہ تم لوگوں کا کہنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader