دینِ انسانیت
Urdu book, p. 395
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا : أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا )۔ اس کے بعد آپ نے مسیلمہ کو حسب ذیل خط لکھوایا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ: السَّّلَامُ عَلَى مَنْ اَتَّبَعَ الْهُدَى. أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 601-600) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام صرف متقیوں کے لیے ہے۔ اس واقعہ میں ایک طرف سچے رسول اور جھوٹے رسول کا تقابل ملتا ہے۔ مسیلمہ کا خط واضح طور پر جھوٹے رسول کا خط ہے اور پیغمبرِ اسلام کا خط واضح طور پر سچے رسول کا۔ دوسری بات جو پیغمبر اسلام کے اسوہ سے معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ غیر قوم کا سفیر خواہ وہ بدترین مجرم کیوں نہ ہو، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو اس کے وطن کی طرف واپس کر دیا جائے گا۔ ان معاملات میں بین الاقوامی اصول ہی اسلام کا اصول ہے۔ پیغمبرانہ طریقہ سیرت کی کتابوں میں جن واقعات کا ذکر ہے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو ” حلف الفضول“ کہا جاتا ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ آپ کو ابھی پیغمبری نہیں ملی تھی۔ مکہ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان میں کچھ لوگ جمع ہوئے۔ انہوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader