پیغمبرانہ اسلوب
Urdu book, p. 397
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرانہ اسلوب پیغمبروں کی جو سیرت ہمارے علم میں آتی ہے اس کا ایک پہلو بڑا عجیب ہے۔ ہر پیغمبر اپنی ابتدائی زندگی میں لوگوں کا محبوب بنا ہوا تھا۔ مگر جب اس نے پیغمبری کا کام شروع کیا تو انہیں لوگوں کے درمیان وہ انتہائی مبغوض شخص بن گیا۔ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ خود پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی۔ یہی معاملہ پیش آیا۔ پہلے آپ کی قوم آپ کو ”الامین“ کہتی تھی۔ مگر جب آپ نے ان کو حق کا پیغام دینا شروع کیا تو وہ لوگ آپ کی ہلاکت کے درپے ہوگئے۔ یہ ایک مسلّم بات ہے کہ ہر پیغمبر اپنی سیرت و کردار کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام پر ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان بے ضرر بن کر رہتا ہے۔ وہ لوگوں سے کسی چیز کی مانگ نہیں کرتا۔ اس کا اخلاق اتنا اونچا ہوتا ہے کہ لوگوں کی برائی کا جواب بھی وہ بھلائی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کا وجود سراپا نورانیت میں ڈھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود جب وہ پیغام رسانی کا کام شروع کرتا ہے تو لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ معروف طور پر صرف ”کافروں“ کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ ٹھیک یہی معاملہ خود ”مسلمانوں“ کے درمیان بھی پیش آتا ہے۔ حضرت مسیح جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوئے وہ قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ مگر انہوں نے حضرت مسیح کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ آپ کو ذلیل کیا۔ آپ پر تھوکا۔ آپ پر مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا۔ حتی کہ آپ کو قتل کر دینا چاہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader