دینِ انسانیت
Urdu book, p. 398
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبروں کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف لوگوں کے غصہ اور دشمنی کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانہ میں تنقید کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی قوم شروع میں دور نہیں ہوئی تھی۔ مگر جب آپ نے ان کے معبودوں کا تذکرہ کیا اور ان پر عیب لگایا تو اس کو انہوں نے بہت برا مانا۔ اس کے بعد وہ آپ کے دشمن ہو گئے: حَتَّی ذَکَرَ آلِهَتَهُمْ وَعَابَهَا، فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِکَ أَعْظَمُوْهُ وَنَاکَرُوْهُ، وَأَجْمَعُوْا خِلَافَه وَعَدَاوَتَهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 238)۔ ابن اسحاق نے جس چیز کو عیب لگانا کہا ہے اور جس کو مکہ کے مشرکین سب وشتم کہتے تھے، وہ آج کل کی زبان میں تنقید تھی۔ ہر نبی کا یہ طریقہ تھا کہ وہ مطلوب کی طرف بلاتے ہوئے غیر مطلوب پر تنقید کرتا تھا۔ یہی تنقیدی اسلوب تھا جس نے لوگوں کو پیغمبروں کا دشمن بنا دیا۔ اُسوہ حسنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں دعوت کا کام شروع کیا تو مکہ کے لوگ، خاص طور پر وہاں کے سردار آپ کے سخت مخالف ہو گئے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ترین تکلیفیں دیں۔ مگر آپ کو حکم دیا گیا کہ تم کوئی جوابی کارروائی نہ کرو بلکہ یک طرفہ طور پر ان کی سختیوں کو نظر انداز کرو دَعْ أَذَھُمْ (33:48)۔ اس طرح آپ 13 سال تک صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کی جان کے دشمن ہو گئے۔ انہوں نے تلوارلے کر آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ اس وقت بھی آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ اللہ کے حکم سے آپ خاموشی سے مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ مکہ کے لوگ اب بھی چپ نہیں بیٹھے۔ انہوں نے دھمکیاں دیں کہ وہ مدینہ پر حملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader