اسلام مذہب امن
Urdu book, p. 410
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام مذہب امن یورپ کے ایک سفر میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزگار کی تلاش میں تھے۔ اس سلسلہ میں وہ ایک غیر مسلم ادارہ میں انٹرویو کے لیے گئے۔ گفتگو کے دوران انٹرویو ر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو ۔ نوجوان نے کہا کہ ہاں ۔ یہ سن کر انٹرویو ر نے فوراً کہا کہ پھر تو تم دہشت گرد ہو: Then you are a terrorist. موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ایک طبقہ کے کٹر پن اور اس کی جنگ جو یا نہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ اسلام دہشت گردی (terrorism) کا مذہب ہے۔ اسلام اپنا مقصد جنگ اور تشدد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر خلاف واقعہ ہے۔ اسلام مسلمانوں کے کسی رویہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام ایک اصولی مسلک کا نام ہے، وہ کسی قوم کے قومی طرز عمل کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام سے جانا جائے گا، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچا جانے لگے۔ اگر کچھ مسلمان دہشت گردی کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں، نہ کہ اسلام ۔ ان کے اسلامی نعرہ کی وجہ سے ان کا عمل اسلام کا عمل نہیں بن جائے گا۔ اسلام پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور آپ کے نمونہ حیات کا نام ہے۔ اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر تھے، وہ جنگ کے پیغمبر نہیں تھے۔ اسی لیے قرآن میں آپ کو رحمتہ للعالمین کہا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader