Urdu book · دینِ انسانیت

اسلام مذہب امن

Urdu book, p. 411

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ: ہم نے تم کو ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107)۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ ان کے یہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام حرب رکھا۔ عرب ایک جنگجو قوم تھے۔ چنانچہ وہ جنگی ناموں کو پسند کرتے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے حرب نام کو پسند نہیں کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کے بجائے تم بچہ کا نام حسن رکھو (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2777)۔ اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ آپ پورے معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ کی امن پسندی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ آپ حرب جیسا لفظ سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ تشدد میں نہیں بلکہ حسن اخلاق میں یقین رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انقلاب لے کر آئے۔ مگر یہ انقلاب امن کی قوت سے برپا کیا گیا، نہ کہ جنگ کی قوت سے۔ اگر کبھی آپ نے جنگ کی تو وہ مجبورانہ دفاع کے طور پر تھی، نہ کہ آپ کی اپنی پسند اور آپ کے اپنے انتخاب کے تحت۔ امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء۔ چنانچہ اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی (بدر، احد، حنین)۔ یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔ زید بن مہلہل نجدی میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑ سوار کو کہتے ہیں۔ انہوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page