Urdu book · دینِ انسانیت

اضافہ ایمان

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سمندر میں داخل ہونا ہے۔ ایمان اپنی محدودیت کو لامحدود کے درجہ تک لے جانا ہے۔ ایمان زمینی پستیوں سے اٹھ کر آسمانی بلندیوں تک پہنچ جانا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی ایک ایسے روحانی سفر کا مسافر بن جائے جہاں ہر آن نیا تجربہ ہے۔ وہ ایک ایسا شعوری ارتقا ہے جس کا سلسلہ کبھی اور کہیں ختم نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن میں ایمان کو ایک ارتقا پذیر حقیقت بتایا گیا ہے، ایک ایسا قلبی سرمایہ جس میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے (الفتح 48:4) ایمان ایک اعلیٰ ترین علم ہے جو ہمیشہ اللہ کی توفیق سے بڑھتا رہتا ہے۔ ایمان میں یہ زیادتی کس طرح ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ذریعہ تفکر و تدبر ہے۔ انسان خدا کی باتوں کو پڑھتا ہے۔ وہ خدا کی چیزوں میں غور کرتا ہے (آل عمران، 3:191) اس طرح حق وصداقت کی نئی نئی تجلیاں اس پر منکشف ہوتی ہیں۔ پھر وہ اہل ذوق کے ساتھ ان پر مذاکرہ کرتا ہے، جیسا کہ عمر فاروق نے کہا: تعال تؤمن ساعة، ھلم فلند کر ربنا۔ اس طرح فکری تبادلہ کے ذریعہ ہر ایک اپنے علم کو بڑھاتا ہے۔ ہر ایک اپنی معرفت میں اضافہ کرتا ہے۔ فکری ارتقا کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ میں آزادانہ تبادلہ خیال کا ماحول ہو۔ لوگ کھلے طور پر اپنی بات کو کہیں اور دوسرے کے تبصرہ کو سنیں۔ کہنے والے کو آزادانہ طور پر اپنے دل کی بات کہنے کا موقع ہو اور سننے والوں میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس کو سنیں ۔ اس طرح تبادلہ افکار کے ذریعہ شعور ایمان کا ارتقائی سفر مسلسل جاری رہے۔ اضافۂ ایمان خلا میں نہیں ہوتا بلکہ افکار کے طوفانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم یہ دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب، میرا علم زیادہ کر دے: وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْماً (20:114)۔ اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ربّ زدنی علماً کا مطلب ہے : رَبِّ زِدْنِي فَهْماً (القرطبی، جلد 11 ، صفحه (250) یعنی ، میرے فہم دین میں اضافہ کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page