Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے ساتھ سلوک کا معاملہ اخلاق کے تابع ہوتا ہے۔ مگر جب حق سامنے آجائے تو خود اخلاق بھی حق کے تابع ہو جائے گا۔ کیوں کہ اس دنیا میں حق سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ حق کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ حق اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ حق کا سامنے آنا گویا خدا کا سامنے آنا ہے۔ پھر جب خدا خود سامنے آجائے تو دوسری کون سی چیز ہوگی جو اس کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت رکھتی ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی حق کا نام لے کر کھڑا ہو اس کو دوسروں کے اوپر لامحدود اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اس معاملہ میں جو فضیلت ہے وہ نفس حق کے لیے ہے نہ کہ حق کا نام لینے والے کسی انسان کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ حق کا نام لے کر اٹھنے والے کسی فرد کو بھی اسی معیار سے جانچا جائے گا جس سے وہ دوسروں کو جانچنا چاہتا ہے۔ دونوں میں سے جو بھی حق کے معیار پر پورا نہ اترے وہ قابل ملامت ہے، اور اس کی بہترین سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف حق کے فیصلہ کو دل سے قبول کرلے۔ حق کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ مبارک ہے وہ جس کے سامنے حق ظاہر ہو اور وہ اس کو پہچان کر فوراً اس کے آگے جھک جائے۔ اضافۂ ایمان ایمان کوئی جامد چیز نہیں اور نہ کسی مجموعۂ الفاظ کو زبان سے دہرا لینے کا نام ایمان ہے۔ لفظی مجموعہ ایمان کی ظاہری علامت ہے نہ کہ خود لفظی مجموعہ ہی اصل ایمان ہے۔ تمام اعلیٰ حقیقتوں کی اہمیت ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوتی ہے، پھر ایمان جیسی اعلیٰ ترین حقیقت کی اہمیت اس کے الفاظ تک کیوں کر محدود ہو جائے گی۔ ایمان حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت ہے۔ ایمان علوم کے سرے کو پکڑنا ہے۔ ایمان معانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page