Urdu book · دینِ انسانیت

بے جا غلو

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

بے جا غلو قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ۔ امید ہے کہ تمہارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے :عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَحْمُوداً (17:79)_ بغداد میں 317 ھ میں اس آیت پر دو مسلم گروہوں کے درمیان بحث ہوئی۔ ایک طرف ابو بکر المروزی الحنبلی کے اصحاب تھے، اور دوسری طرف عوام کا ایک طبقہ۔ حنابلہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ قیامت کے دن آپ کو عرش کے اوپر بٹھائے گا۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ اس سے مراد شفاعت عظمیٰ ہے۔ یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ دونوں گروہوں میں باقاعدہ جنگ ہو گئی جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 11، صفحہ 162)۔ اس قسم کے واقعات پہلے بھی بار بار پیش آئے اور آج بھی ایسے واقعات کثرت سے پیش آ رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ بحث و اختلاف بذاتِ خود غلط ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صرف مقلد بن کر رہیں۔ کسی بھی قسم کی اختلافی بحث میں نہ پڑیں۔ یہ مشورہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ مشورہ دینے والوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اختلاف کا صحیح طریقہ بتائیں، نہ یہ کہ خود اختلاف کو بند کرنے کا مطالبہ کریں۔ مذکورہ افسوس ناک واقعہ اس لیے ہوا کہ انھوں نے علمی اختلاف اور جنگی ٹکراؤ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ علمی اختلاف کا اول و آخر ہتھیار دلیل ہے، اور جنگی ٹکراؤ کا ہتھیار تلوار اور بندوق ہے۔ اگر جنگی ٹکراؤ پیش آجائے تو متشددانہ اسلحہ کا استعمال ایک ناگزیر ضرورت ہوگا۔ کیوں کہ جنگی ٹکراؤ میں فیصلہ کن چیز ہمیشہ ہتھیار ہی رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page