Urdu book · دینِ انسانیت

بے جا غلو

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر علمی اختلاف کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ اس میں ہتھیاروں کا استعمال صرف ایک قسم کا پاگل پن ہے۔ کیوں کہ علمی اختلاف میں اصل اہمیت کی چیز دلیل ہوتی ہے نہ کہ تشدد۔ فریق ثانی اگر ایک دلیل کو نہیں مانتا تو اس کے سامنے دوسری دلیل پیش کیجئے۔ دوسری دلیل سے بھی مطمئن نہیں ہوتا تو تیسری اور چوتھی دلیل پیش کیجئے۔ علمی بحث میں ہمیشہ صرف دلیل پیش کی جائے، خواہ کوئی اسے مانے یا ماننے سے انکار کردے۔ مذکورہ واقعہ سے جو چیز غلط یا قابل ترک قرار پاتی ہے وہ تنقید اور اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ غلو اور شدت پسندی ہے، اور غلو ہر معاملہ میں برا ہے۔ تنقید کو بند کرو، اختلاف رائے کو ختم کرو، تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے یہ جملہ قواعد کے اعتبار سے درست ہے، مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو، اختلاف رائے کو برداشت کرو تا کہ امت میں اتحاد ہو سکے۔ کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیادی پر ہوتا ہے، اور امت مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہو گا۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے۔ اسی طرح محدثین ،فقہاء، علماء، صوفیاء سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ متی کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم کرنے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے۔ تنقید و اختلاف کوئی برائی نہیں۔ وہ فکری ارتقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر غزوہ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدان جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا۔ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page