اختلافات کی توجیہ
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (4:81) ۔ یعنی، ان سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ دوسری طرف قرآن میں یہ حکم ہے کہ: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ (9:73) ۔ یعنی، اے نبی، کافروں اور منافقوں سے جنگ کرو۔ یہ دونوں آیتیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتی ہیں۔ ایک آیت جن لوگوں سے اعراض کی تعلیم دیتی ہے، دوسری آیت انھیں لوگوں سے ٹکراؤ کا حکم دے رہی ہے۔ اس فرق و اختلاف نے ذہنوں کو جھنجھوڑا اور لوگوں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ اب ایک خیال یہ قائم کیا گیا کہ قتال کی آیت نے اعراض کی آیت کو منسوخ کر دیا ہے ( فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ ) اى لَا تُعَاقِبْهُمْ ۔ وَيُقَالُ: إِنَّ هَذَا مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ (تفسیر القرطبی، جلد 5، صفحہ 290)۔ مگر ذہنی عمل یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ اس نے مزید کچھ لوگوں کے ذہن کو متحرک کیا۔ انھوں نے غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اعراض کی آیت منسوخ نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کو محکمات میں شمار کیا (تفسیر القرطبی 10/202)۔ اب غور کیجیے تو یہی دوسری رائے قرآن کی روح کے زیادہ مطابق نظر آئے گی۔ اصل یہ ہے کہ اعراض ایک مستقل حکم ہے اور اس کا تعلق مومن کی عام اخلاقیات سے ہے۔ دعوت دیتے ہوئے، لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے، یا سفر کرتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسے تمام مواقع پر اعراض کا طریقہ اختیار کرنا ایک مستقل حکم ہے۔ مومن جاہلوں سے اعراض کر کے خلق عظیم کا ثبوت دیتا ہے جو دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں تک جہاد (بمعنی قتال) کا تعلق ہے، وہ دفاع کی مصلحت کے تحت ہے۔ جب کسی گروہ کی طرف سے عملاً جارحیت کا فعل کیا جائے تو اس وقت اس کی جارحیت کو فرو کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader