Urdu book · دینِ انسانیت

اختلافات کی توجیہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلوب ہے اور دین کے دوسرے حصے میں تنوع اور توسّع۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اساساتِ دین (مثلاً اخلاصِ للہ) کی حیثیت اسپرٹ کی ہے اور فقہی احکام کی حیثیت فارم کی۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت پائی جاتی ہے۔ مگر فارم میں کبھی یکسانیت نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی۔ مثلاً مکان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ شلٹر کا کام دے۔ اس اعتبار سے ہر مکان یکساں ہوگا۔ مگر فارم کے اعتبار سے ہر مکان یکساں نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح دین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ مگر فارم کے اعتبار سے اس میں تنوع ہوتا ہے اور یہ تنوع کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ صحابہ کے اختلاف کی اصل حقیقت یہی ہے۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی ایک عظیم مثبت افادیت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ کسی معاملہ میں جب اختلاف کا امکان ہو، اسی وقت اس میں ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں اور اس طرح انسانی فکر کا مسلسل ارتقا ہوتا رہتا ہے۔ اگر اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو ذہنی سرگرمیاں بھی جاری نہ ہوں گی، اور پھر انسانی فکر کا ارتقا کا عمل بھی رک جائے گا جس کا آخری نتیجہ ذہنی جمود ہوگا، اور ذہنی جمود اس دنیا میں ذہنی موت کے ہم معنی ہے۔ اس عمل کے دوران لازماً اختلاف واقع ہوگا۔ کوئی عالم ایک رائے پر پہنچے گا، اور کوئی عالم دوسری رائے پر، اور کوئی عالم تیسری رائے پر۔ مگر رایوں کا اختلاف کوئی برائی نہیں۔ اصل قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ یہی واحد صورت ہے جس سے کسی گروہ کے اندر فکری سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں۔ اور پھر فکری سرگرمیوں کے ذریعہ تخلیقیت (creativity) جنم لیتی ہے اور ذہنی ارتقا کے راستے کھلتے ہیں۔ اس معاملہ میں ”اختلاف“ کی حیثیت فطری کورس کی ہے، اور فکری سرگرمیوں کی حیثیت نتیجہ کی، اور اصل قابل لحاظ چیز نتیجہ ہے نہ کہ کورس۔ اس معاملہ کی ایک مثال لیجیے۔ قرآن میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ: فَأَعۡرِضۡ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page