Urdu book · دینِ انسانیت

روشنی کی طرف

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

نیک عمل کیا اس کو وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے اس کو بہت اچھی روزی دی (11-10: 65)۔ پیغمبر کی ہدایت کو اس آیت میں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانا کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے، غلط فکری کی حالت سے نکال کر صحیح فکر کے مرحلہ میں پہنچانا۔ انسان پیدائشی طور پر حقیقت کو جاننا چاہتا ہے۔ مگر انسان کی عقل محدود ہے۔ اپنی اس محدودیت کی بنا پر کوئی شخص حقیقت کا پورا احاطہ نہیں کر پاتا، اس لیے وہ مستقل طور پر بے یقینی کی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔ پیغمبر کی ہدایت آدمی کو اس حالت سے نکالتی ہے۔ وہ آدمی کو کامل یقین کے دور میں پہنچاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی بہتر انجام تک پہنچے۔ مگر انسان جب کوشش شروع کرتا ہے تو اپنی کامیابی کی آخری حد پر پہنچ کر وہ صرف یہ دریافت کرتا ہے کہ جو کچھ میں چاہتا ہوں وہ اس دنیا میں کبھی ملنے والا نہیں۔ یہاں پیغمبر کی ہدایت اس کے لیے تاریکی میں روشنی بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اس کو صحیح سوچ اور صحیح عمل کا راستہ دکھاتی ہے۔ موجودہ دنیا میں سب سے اہم چیز صحیح طرز فکر ہے، موت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں بھی، اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں بھی۔ مگر موجودہ دنیا بے شمار چیزوں کا ایک جنگل ہے۔ یہاں ان گنت آوازیں بیک وقت گونج رہی ہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہ مشکل ترین امر ہے کہ وہ فکر کے صحیح سرے کو دریافت کرے اور اس پر یقین کے ساتھ جم جائے۔ پیغمبر کی رہنمائی یہاں انسان کی مدد کرتی ہے۔ وہ انسان کو سوچ کا وہ صحیح سرا دیتی ہے جہاں سے وہ اپنے لیے صحیح نقطہ آغاز پالے۔ اور صحیح نقطہ آغاز کو پالینا ہی اس دنیا میں حقیقی منزل تک پہنچنے کی سب سے زیادہ یقینی ضمانت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page