حکیمانہ قول
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
حکیمانہ قول حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ حقیقی عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے: اِنَّ الْفَقِیْہَ حَقَّ الْفَقِیْہِ، مَنْ لَمْ یُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ (مسند الدارمی، اثر نمبر (305)۔ یہ ایک نہایت بامعنی قول ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ وعظ و نصیحت کی مجلس میں جب عام لوگوں کو نیک عملی کی تلقین کی جائے تو ایسا معیار ان کے سامنے نہ رکھا جائے کہ وہ سمجھنے لگیں کہ دین پر عمل کرنا ان کے بس میں نہیں ہے، اور وہ خدا کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ اس کے بجائے بات کو اس طرح کہا جائے کہ اس میں ترغیب و تشویق کا پہلو نمایاں ہو، جس کو سن کر لوگوں کے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہو۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کے معاملات میں لوگوں کو جو رہنمائی دی جائے اس میں شدت کے طریقہ سے پرہیز کیا جائے۔ کم علمی سے شدت پسندی پیدا ہوتی ہے۔ مگر جو آدمی گہر ا علم رکھتا ہو اس کی نظر وسیع ہوگی۔ اس بنا پر وہ ایسی بات کہے گا جس میں رعایت اور سہولت کا پہلو نظر انداز نہ ہونے پائے۔ جس میں خدا کا دین ہر آدمی کو قابل عمل دکھائی دینے لگے۔ اسی طرح اس قول کا ایک پہلو وہ ہے جو وسیع تر حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں جب ایک قوم دوسری قوم پر غالب آجائے۔ جب ایک گروہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جائے۔ یہاں تک کہ قومی زندگی میں نئے نئے مسائل پیدا ہو جائیں۔ اس وقت کم علم آدمی ظاہر حالات کو دیکھ کر شکایت اور احتجاج کی زبان بولنے لگے گا۔ وہ سازش اور ظلم کا انکشاف کر کے لوگوں کو محرومی اور مظلومی کے احساس میں مبتلا کر دے گا۔ لیکن جو شخص گہر ا علم رکھتا ہو وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ حالات کا جائزہ لے گا، وہ حقائق کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader