Urdu book · دینِ انسانیت

اختلاف رائے

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

”گستاخی‘‘ کو کبھی برا نہیں مانا۔ دونوں کے درمیان آخر وقت تک مخلصانہ تعلق باقی رہا۔ مولانا اشرف علی تھانوی ایک گفتگو کے ذیل میں اپنے استاد اور شیخ کے بارے میں کہتے ہیں: ”حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذرہ برابر بھی گرانی نہ تھی۔ ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے میرے متعلق برے بھلے الفاظ کہہ رہے تھے۔ کچھ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑ گئے۔ باہر تشریف لے آئے ۔ بہت خفا ہوئے اور یہ فرمایا کہ خبردار، جو آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال کئے ۔ اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا وحی آتی ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ سب ٹھیک ہے۔ میری بھی ایک رائے ہے، اس کی بھی ایک رائے ہے۔ ایک مرتبہ حضرت نے یہ فرمایا کہ ہمیں تو اس پر فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندوستان سے بھی متاثر نہ ہوا اور کسی کی بھی پروا نہ کی وہ بھی ہماری ہی جماعت سے ہے۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، مولانا اشرف علی تھانوی، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان، صفحہ 114) یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے معاملہ میں علما امت کا طریقہ کیا ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اختلافات میں وہی روح کارفرما ہونی چاہئے جس کو امام شافعی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے: میری رائے درست ہے، مگر احتمال خطا کے ساتھ، دوسرے کی رائے غلط ہے مگر احتمال صحت کے ساتھ۔ (رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيِي غَيْرِي خَطَاً يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (یہ اختلافات عام طور پر اجتہادی امور میں ہوتے ہیں اور اجتہادی امور میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لیے صحیح ترین مسلک یہ ہے کہ آدمی اختلاف کے باوجود اپنے آپ کو فریق ثانی کی نفرت سے بچائے۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کو شدت کے ساتھ پیش کرے، اس کے باوجود اس کی نفسیات یہ ہو کہ یہ معاملہ 50 فیصد اور 50 فیصد کا ہے، نہ کہ صدفی صد کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page