دینِ انسانیت
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً خدا کا ہاتھ تمثیل کی زبان ہے نہ کہ حقیقت کی زبان ۔ اس طرح کی باتوں کو آدمی تعیین و تحدید کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ان معاملات میں صحیح یہ ہے کہ مجمل علم پر قناعت کی جائے۔ اس سے زیادہ جاننے کی کوشش آدمی کو صرف فکری انتشار (confusion) تک پہنچائے گی۔ اور فکری انتشار ہی کے اگلے نتیجہ کا نام گمراہی ہے۔ محکم سے مراد وہ آیتیں ہیں جو براہِ راست زبان میں ہیں اور جن سے قطعی دلالت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معلوم انسانی دائرہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان میں سنجیدہ غور و فکر سے آدمی کے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہدایت کے راستہ پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جبر و قدر کا جو مسئلہ ہے وہ پورا کا پورا متشابہات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں مجمل علم پر قانع رہنا ہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور شریعت کا تقاضا بھی۔ اور یہی عین سائنسی نقطہ ہے۔ دوسری چیز وہ ہے جو عالمِ فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرنا۔ یہ غور و فکر عین مطلوب ہے۔ اس قسم کا غور و فکر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے۔ اس کی روحانیت کو غذا فراہم کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کو ربانی شخصیت بناتا ہے۔ اس کو وہ اعلیٰ انسان بنا دیتا ہے جس کو عام زبان میں حقیقت شناس اور مذہبی زبان میں خدا شناس کہا جاتا ہے۔ اختلاف رائے مولانا محمود حسن دیوبندی (1920-1851) تحریک خلافت کے پرجوش حامیوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1863) تحریک خلافت کے مخالف تھے۔ وہ اس تحریک پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے۔ مگر استاد نے اپنے شاگرد کی اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader