خدا اور انسان
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا اور انسان ابو مسعود انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز وہ کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ خدا تمہارے اوپر اس سے زیادہ قابورکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر قابورکھتے ہو (اِعلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر گیا۔ اور انھوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1659)۔ ابو مسعود پہلے معاملہ کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس وقت انھیں نظر آتا تھا کہ وہ مالک ہیں اور دوسرا آدمی غلام۔ اپنی ذات انھیں اونچی سطح پر نظر آتی اور غلام کی ذات نیچی سطح پر۔ مگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی تنبیہہ کے بعد انھیں نظر آیا کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اب انھیں اپنا وجود بھی وہیں پڑا ہوا نظر آیا جہاں وہ اپنے غلام کو بٹھائے ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر خدا کے آگے عاجز نظر آئے۔ یہی وجہ تھی کہ اٹھا ہوا ڈنڈا ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی زندگی کی تمام خرابیاں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی معاملہ کو انسان کی نسبت سے دیکھتا ہے نہ کہ خدا کی نسبت سے۔ ایک آدمی کو دولت مل جائے تو وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے جن کے پاس دولت نہیں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کو نظر آئے گا کہ وہ بھی اتناہی مفلس ہے جتنا کوئی دوسرا شخص۔ کسی آدمی کو بڑا عہدہ مل جائے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تمام لوگوں سے بڑا ہوں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ وہ بھی اتنا ہی حقیر ہے جتنا کہ دوسرے لوگ۔ ایک آدمی تیز ہے اور وہ دوسرے آدمی کے خلاف زبان چلا رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے مقابلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader