Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

میں وہ اس کو کمتر سمجھ رہا ہے۔ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے کیونکہ خدا کی نسبت سے وہ بھی اتنا ہی بے زور ہے جتنا کہ دوسرا آدمی۔ اسلام وہ انسان بناتا ہے جو معاملات کو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کا معاملہ نہ سمجھے۔ بلکہ ہر معاملہ کو ایسا معاملہ سمجھے جو آخر کار خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ چیز تمام برائیوں کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ اس کے بعد کسی کے لیے گھمنڈ، حسد، جاہ پسندی اور بے انصافی کا موقع ہی باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد اس کا ڈنڈا“ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے آدمی کے سر کے اوپر پڑے۔ عبادت اور خدمت اسلام کی عبادتیں اصلاً خدا کی یاد اور خدا کی پرستش کے لیے ہیں۔ تاہم ان کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ بھی بن گئی ہیں۔ اہل اسلام ان عبادتوں کی ادائیگی کے دوران خدا کا حق ادا کرتے ہوئے بندوں کا حق ادا کرنے کی تربیت بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ نماز خدا کے لیے ذکر و دعا کے ساتھ بندوں کے درمیان مساوات کا ذریعہ بھی بن گئی ہے۔ نماز باجماعت میں روزانہ پانچ بار تمام مسلمان ایک ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر مراسم عبادت ادا کرتے ہیں۔ چھوٹا اور بڑا، امیر اور غریب، بے اقتدار، عالم اور غیر عالم، سب کے سب ایک فرش پر اور ایک صف میں اس طرح کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ایک اور دوسرے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس طرح نماز کی عبادت عین اسی وقت مساوات انسانی کا عظیم سبق بھی بن گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page