والدین کے ساتھ
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
چاہیے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرے ۔ ان کے تمام حقوق ادا کرے ۔ حتیٰ کہ اگر وہ اپنی اولاد کو جھڑکیں تب بھی اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کی سخت کلامی کا برا اثر نہ لے اور ان کی محبت اور خدمت میں کوئی کمی ہرگز نہ کرے ۔ وہ یک طرفہ طور پر ان کے ساتھ حسن سلوک کا پابند ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میرے لیے حسن صحبت کا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کون ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ: مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ أُمُّكَ . قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : ثُمَّ أَبُوكَ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2548 )۔ اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ خدا کے بعد انسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں اور باپ کا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ کسی انسان پر اس دنیا میں سب سے زیادہ احسان ماں اور باپ کا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر انسان پر لازم ہے کہ بڑا ہونے کے بعد وہ ہر طرح اپنے والدین کی خدمت کرے ۔ وہ ان کے بڑھاپے میں اسی طرح ان کے کام آئے جس طرح اس کے بچپن میں اس کے والدین اس کے کام آئے تھے۔ دوسرا پہلو یہ کہ آدمی اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ وسیع تر انسانیت کا خدمت گزار بن سکے۔ وہ تمام انسانوں کو محبت کی نظر سے دیکھے۔ وہ تمام انسانوں کی عزت کرنا سیکھے۔ وہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader