Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

روزہ کے مہینہ میں ہر آدمی صبح سے شام تک مکمل طور پر بھوکا رہتا ہے۔ خواہ وہ کتنا ہی دولت مند ہو مگر روزہ میں اس کو بھی اسی طرح بھوکا رہنا ہے جس طرح کوئی عام آدمی۔ اس طرح روزہ رکھ کر ایک مسلمان جہاں خدا کی عبادت کرتا ہے وہیں وہ ضرورت مند انسانوں کی ضرورت کا بھی ذاتی تجربہ کرتا ہے۔ روزہ آدمی کو خدا کا عبادت گزار بنانے کے ساتھ انسانوں کا غم گسار بھی بنا دیتا ہے۔ زکوٰۃ کی نوعیت بھی واضح طور پر یہی ہے۔ زکوٰۃ کا اصل مقصد مالی عبادت ہے۔ زکوٰۃ میں آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ خدا کے نام پر اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اسے غریبوں اور حاجت مندوں کو دیتا ہے۔ اس طرح زکوٰۃ بیک وقت خدا کی عبادت بھی ہے اور اسی کے ساتھ بندوں کی خدمت گزاری بھی۔ زکوٰۃ کی رقم نکال کر ایک طرف آدمی خدا کے معطی ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور دوسری طرف بندوں کے سلسلہ میں وہ اپنی ذمہ داریوں کے احساس کو پختہ کرتا ہے۔ حج بھی اصلاً ایک عبادت ہے۔ مگر حج کے سفر میں حاجیوں کو لڑنے جھگڑنے سے روک دیا گیا ہے (البقرۃ، 2:197)۔ حج میں طرح طرح کے لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ لیکن حاجی اس احساس کے تحت لڑائی سے بچتا ہے کہ میرا حج کہیں باطل نہ ہوجائے۔ اس طرح حج خدا کی عبادت کے ساتھ بندوں کے درمیان پرامن زندگی گزارنے کی سالانہ تربیت بھی بن جاتا ہے۔ والدین کے ساتھ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے باپ اور ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْناً (29:8)۔ قرآن میں کئی مقامات پر اس طرح کی آیتیں ہیں جن میں یہ تأکیدی حکم دیا گیا ہے کہ انسان کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page