دینِ انسانیت
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا پسندیدہ عمل وہی ہے جو صالح عمل ہو، ایسے ہی لوگوں کے لیے خدا کا انعام ہے۔ جو عمل غیر صالح ہو وہ خدا کا مقبول اور پسندیدہ عمل نہیں۔ اس دنیا میں صرف صالح بیچ اگتا ہے اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں صرف صالح انسان ترقی کرتا ہے۔ غیر صالح انسان کے لیے خدا کی اس دنیا میں نہ کوئی ترقی ہے اور نہ کوئی کامیابی۔ صبر کی تعلیم ایک مغربی مبصر ولیم پیٹن (William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی: One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah. یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتیں، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو ناخوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے الجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے اسلام میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ تاکہ آدمی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقصد اعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader