دینِ انسانیت
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اوپر پڑیں ان پر صبر کرو (31:17) ۔ صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (8:46)۔ فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں (2-3: 103)۔ اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 8005) یعنی سنو اور مانو اور صبر کرو۔ آپ نے فرمایا: أَمَرَ الله عز و جل بِالصَّبْرِ وَالْعَفْوِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3000) یعنی اللہ نے صبر اور عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ - يَصْبِرُونَ عَلَى الأَذَى (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4566) ۔ یعنی، رسول اور اصحاب رسول ہمیشہ ایذاؤں پر صبر کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے۔ فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پر قائم نہیں رہ سکتا۔ روحانی ترقی اسلام کا اصل نشانہ روحانی ترقی ہے۔ انسان کی روحانیت جاگے، انسان کے اندر چھپی ہوئی ربانیت بیدار ہو، یہ اسلام کا اصل مقصد ہے۔ قرآن میں اس کو تطہیر اور تزکیہ (التوبة، 9:102) کہا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائش سے فطرتِ صحیح لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان اپنی ابتدائی شخصیت کے اعتبار سے پاک صاف ہی ہوتا ہے۔ مگر دنیا میں زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader