Urdu book · دینِ انسانیت

اعلیٰ اخلاق

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلیٰ اخلاق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جس اخلاق کی تعلیم دی تھی اور جس کو آپ نے اپنی زندگی میں پوری طرح اپنا لیا، اس کا تذکرہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے— اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نہ صرف اخلاق پر تھے بلکہ وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے، اخلاق اگر سادہ قسم کے اخلاق کا نام ہے تو اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی۔ بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے، خواہ دوسرے اس کے ساتھ برائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اسی اعلیٰ معیار پر تھے۔ اس طرح آپ نے خود نمونہ بن کر لوگوں کو عملی طور پر بتایا کہ وہ کس طرح اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں با اخلاق بنائیں ۔ اس قسم کا کردار کسی شخص کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک با اصول انسان ہے۔ ایسے آدمی کی شخصیت حالات کی پیدا وار نہیں ہوتی بلکہ خود اپنے اصولوں کی پیدا وار ہوتی ہے۔ ایسا اخلاق کسی آدمی کے بارے میں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ سچا انسان ہے، وہ فطرت کے راستہ پر قائم ہے۔ حدیث میں کثرت سے حسنِ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 1165)۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ کامل ایمان اس کا ہے جس کا اخلاق سب سے زیادہ اچھا ہو: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page