Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

اِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ( سنن ابی داود، حدیث نمبر 4682)۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میزان میں سب سے افضل چیز اچھا اخلاق ہو گا: إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ ( مسند احمد، حدیث نمبر 27496)۔ مومن خدائی بلندیوں میں جینے والا انسان ہوتا ہے۔ اس لیے ہر حال میں وہ ایک بلند کردار انسان بنا رہتا ہے۔ اس کی بلند فکری کسی حال میں ختم نہیں ہوتی، کوئی بھی صورت حال اس کی بلند کرداری کو ختم کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔ اچھا گمان مدینہ میں ایک بار ایک معاملہ میں باہمی بدگمانی کا واقعہ پیش آیا، اس موقع پر قرآن میں یہ حکم اترا کہ جب تم لوگوں نے اس بات کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہیں کیا، اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے (24:12)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرہ کے اندر خوش گمانی کی فضا ہو۔ لوگ کسی کے خلاف کوئی بات سنیں تو نہ صرف یہ کہ اس کو بیان نہ کریں بلکہ دل میں بھی اس پر یقین نہ کریں۔ وہ اپنے ذہن کو ہمیشہ اچھے خیالات سے آباد کریں۔ قرآن کی ایک اور آیت میں فرمایا کہ تم لوگ بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں (49:12)۔ سماج میں اختلاف اور تفریق کی برائیاں ہمیشہ کسی بدگمانی سے شروع ہوتی ہیں۔ اگر بدگمانی کو شروع ہی میں ختم کر دیا جائے تو باہمی تعلقات بگڑنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اور سماج کے اندر خوشگوار انسانی ماحول مسلسل باقی رہے۔ گمان سے بچنا گویا فتنہ کو اس کے آغاز ہی میں کچل دینا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page