اظہار خیال کی آزادی
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اظہار خیال کی آزادی اسلام میں انسان کو مکمل فکری آزادی دی گئی ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ہی نے پہلی بار انسانی تاریخ میں یہ انقلاب برپا کیا کہ ہر آدمی کو فکر و خیال کی آزادی ہو۔ اسلام سے پہلے تاریخ کے تمام زمانوں میں جبر کا نظام قائم تھا اور انسان فکری آزادی سے محروم تھا۔ فکری آزادی کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانی ترقیوں کا راز اسی فکری آزادی میں چھپا ہوا ہے۔ فکری آزادی کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس اعلیٰ نیکی کو حاصل کرتا ہے جس کو قرآن میں خوف بالغیب کہا گیا ہے (5:94)۔ یعنی خدا کی طرف سے ظاہری دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ کے تحت آزادانہ طور پر خدا کا اعتراف کرنا اور اس سے ڈر کر دنیا میں رہنا۔ جب تک مکمل آزادی کا ماحول نہ ہو کسی کو اس نا قابل بیان لذتِ روحانی کا تجربہ نہیں ہو سکتا جس کو غیب میں خدا سے ڈرنا کہا گیا ہے۔ اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی کو اس اعلیٰ انسانی عمل کا کریڈٹ دیا جا سکے۔ آزادی فکر وہ چیز ہے جو آدمی کو منافقت سے بچاتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ اس کا ذہن لازمی طور پر سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر آزادانہ اظہارِ رائے پر پابندی لگادی جائے تو لوگوں کی سوچ تو بند نہیں ہوگی البتہ ان کی سوچ زبان و قلم پر نہیں آئے گی۔ جو ادارہ یا قوم یا جو ریاست اظہار خیال کی آزادی پر پابندی لگائے وہ آخر کار منافقوں سے بھر جائے گا۔ ایسے ماحول کے اندر مخلص انسان کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader