Urdu book · دینِ انسانیت

اظہار خیال کی آزادی

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح فکری آزادی کا براہ راست تعلق تخلیقیت سے ہے۔ جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی ہو وہاں تخلیقی انسان جنم لیں گے۔ اور جس سماج میں فکر و خیال کی آزادی پر روک لگا دی جائے وہاں لازمی طور پر ذہنی جمود طاری ہو جائے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے سماج میں تخلیقی ذہن کی پرورش اور اس کا ارتقا ہمیشہ کے لیے رک جائے گا۔ اظہار اختلاف یا تنقید کے معاملہ میں صحیح مسلک یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں اپنی غیر ضروری حساسیت کو ختم کردیں، نہ یہ کہ خود تنقید و اختلاف کے عمل کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے اور یہی فطرت کا تقاضا بھی۔ حدیث میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ: اَلَّذِیْنَ اِذَا اُعْطُوْا الْحَقَّ قَبِلُوْهُ (مسند احمد، حدیث نمبر (24379)۔ یعنی وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کرلیں۔ یہاں حق سے مراد امر حق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مومن وہ ہے جس کے اندر اعتراف حق کا مادہ کامل طور پر موجود ہو۔ جب بھی کوئی سچائی اس کے سامنے لائی جائے، جب بھی اس کی کسی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو کوئی بھی احساس اس کے لیے قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اس صفت کا کامل درجہ یہ ہے کہ آدمی خود ہی پیشگی طور پر اس انتظار میں رہے کہ کب کوئی بتانے والا اس کو اس قسم کی کوئی بات بتائے اور وہ خوش دلی کے ساتھ فوراً اسے اپنا لے۔ وہ اپنی اصلاح اور اپنی درستگی کا حریص بن جائے۔ یہی مومنانہ کیفیت حضرت عمر فاروق کی زبان سے ان الفاظ میں ظاہر ہوئی کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اس انسان پر رحم کرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے بھیجے : رَحِمَ اللہُ مَنْ اَهْدٰى اِلَيَّ عُيُوْبِي (مسند الدارمی، حدیث نمبر 675)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page