دینِ انسانیت
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
فرمایا کہ نزاعی معاملات پیش آئیں تو فریقین کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا اور ان کے ساتھ ہمیشہ انصاف کرو (الحجرات، 49:9)۔ یہ ایک عمومی حکم ہے۔ خاندان اور سماج میں ہمیشہ اختلافات پیش آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر تمام متعلقین کا فرض ہے کہ وہ معاملہ کو انصاف کے مطابق طے کریں۔ کسی فریق کی طرف جھکے بغیر امر واقعہ کے مطابق معاملہ کا فیصلہ کرائیں۔ پھر فرمایا کہ : اے ایمان والو، تم اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، تم بہر حال انصاف کرو، یہی روش تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (المائدہ، 5:8) اس سے معلوم ہوا کہ عدل و انصاف کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ زیر معاملہ آدمی دشمن ہو تب بھی انصاف کو نہ چھوڑا جائے، تب بھی وہی بات کہی جائے جو عدل و انصاف کے مطابق ہو۔ زمین و آسمان کا نظام سراپا عدل پر قائم ہے۔ یہاں انسان کے لیے بھی وہی روش درست ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ غیر عادلانہ روش کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ قصد و اعتدال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى، وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ، وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْعِبَادَةِ (مسند البزار، حدیث نمبر 2946)۔ کیا ہی اچھی ہے میانہ روی دولت مندی میں، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی مفلسی میں، کیا ہی اچھی ہے میانہ روی عبادت میں۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: الْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463)۔ یعنی، میانہ روی، میانہ روی، تم منزل پر پہنچ جاؤ گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader